Imran Khan

عمران خان کا سیاسی دور کیسے شروع ہوا

A death change me in the way that i made me ask the question what i am doing here on this earth

موت نے مجھے اس انداز میں تبدیل کیا کہ میں نے یہ سوال پوچھنے پر مجبور کیا کہ میں اس زمین پر یہاں کیا کر رہا ہوں۔

سن ١٩٩٦میں تحریک انصاف کا سورج طلوع ہوا کیسی یہ ہوائیں چلیں امیدیں تجھسے جڑیںساتھ ہے تیرے ہر بچہ اور بڑھا ساتھ ہر ماں کی دعا “قوم کا جو حاکم ہوتا ہے وہ قوم کا خادم ہوتا ہے”عمران خان نے خطاب میں کہا کہ دوستو مجھے خوشی ہوئی کہ تحریک انصاف کا پہلا آفس گڑھی چاھو میں کھلا

عمران خان کے پاسس نیشنل اسمبلی میں صرف ایک سیٹ تھی ٢٠١٣کے الیکشن سے پہلےلیکن پہلی بار جب طاقت دکھائی پولیٹیکل مینار پاکستان میں جلسے میں اس وقت اسنے لوگوں کو یہ سوچنے پے مجبور کر دیا کے شروع سے دو پارٹی سسٹم چلتا آ رہا ہے پاکستان میں جو کے پاکستان کو لوٹ رہے ہیں اسکے بعد عمران خان نے یکے بعد دیگرے ہر شہر میں جلسے کیے اور عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ یہ دو پارٹی سسٹم پاکستان کو لوٹ رہے ہیں پاکستان کے اوپر اربوں ڈالر کا قرضہ ہو گیا ہے کرپشن کا دور دورہ ہے خدا را اپنے ووٹ کا سہی سے استمعال کرو عمران خان نے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے جب لاہور میں سب سے بڑا جلسہ کیا تھا

الله نے انسان کے ہاتھ میں کوششیس دی ہیں کامیابی وہ دیتا ہے

٢٠١٣ کے الیکشن کی مہم میں لگاتار جلسے کرتے ہوے ایک جلسے کے خطاب کے دوران اسٹیج سےگر گئے جس سے وہ خاص نگرانی نہ کر سکے جسکا یہ نتیجہ نکلا کے وہ صرف کے پی کے میں صوبائی حکومت بنا سکے لیکن اس دوران یہ فیصلہ کیا گیا کے وہ بھرپور اپوزیشن والا کردار نبھائیں گے

عمران خان کو یقین تھا کے اس الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اسکے منتخب کردہ انتخابی امیدوار کے خلاف تو الیکشن کمیشنسے چار حلقے کھولنے کے لیے جو کے پہلےانہوں نے تسلیم نہ کیا لیکن پر امن احتجاج کے دھرنے کے بعد انکی شرائط مان لی گئی ان سب میں پھر دھاندلی ثابت ہوئی اور ان حلقوں میں ریووٹنگ ہوئی جس سے تحریک انصاف کو زیادہ پزیرائی ملی

اس دوران وفاق کی حکومت کو کافی ٹف ٹائم دیا گیا نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کو لے کے چلے جس میں انکو وزیر اعظم کے عہدےسے ہٹایا گیا جو کے اس وقت کسی بھی اپوزیشن کی پاکستان میں بہت بڑی کامیابی ہے

الیکشن ٢٠١٨میں تحریک انصاف نے بھرپور تر یکے سے حصہ لیا ساری انتخابی مہم کی خود نگرانی کی خود ٹکٹس دئیے ہر ایک ایک امیدوار کو جو انکی ٹرمز اینڈ پالیسیز پر پورا اتر سکے

پہلے کئی …پھر دوستی…. اور بہت سی تبدیلیاں … پرانے اور نیۓ عمران خان کے درمیان اتنا فرق نظر آتا ہےکے زبان خود بخود کہتی کے کتنا بدل گیا ہے انسان

وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ میں تبدیلیاں اتی رہتی اور وقت کے ساتھ انسان سب کچھ سیکھ جاتا ہے جب ٹھوکریں کھاتا ہے کون کہتا تھا کے ایک انسان جسکو اسکے کزن طعنےدیتے تھے یہ کرکٹ نہں کھیل سکتا اسی شخص نے بھرپور محنت کی اور تاریخ میں پاکستان ایک ہی ورلڈ کپ جیتا ہے جو عمران خان کی رہنمائی میں جیتا تھا

 

Leave a Reply

Follow Us